بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ الجزیرہ نیوز نیٹ ورک اس سلسلے میں لکھتا ہے: آیت اللہ خامنہ ای کی تشییع کی رسومات صرف تہران تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سات روزہ پروگرام کے تحت دارالحکومت سے شروع ہو کر، قم، [بغداد،] نجف اور کربلا میں تقریبات کے انعقاد کے بعد، مشہد میں تدفین کی رسم کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی ہے۔
الجزیرہ کا خیال ہے کہ اس راستے کا انتخاب محض ایک رسمی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایران کے اندر اور باہر کے لئے سیاسی، مذہبی اور علامتی پیغامات کا حامل ہے۔

باضابطہ وداع؛ دنیا کو استحکام کا پیغام
الجزیرہ کے مطابق، اس تقریب کا پہلا مرحلہ، ـ جو سرکاری وفود اور مختلف ممالک کے نمائندوں کی شرکت کے لئے مختص ہے، ـ "امام شہید" کی شہادت کے بعد کے دور میں اسلامی جمہوریہ کی حکمرانی کے تسلسل کی علامت ہے؛ اور بیرونی شخصیات اور وفود کی موجودگی میں تکریم و تعظیم کی رسم کا آغاز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تقریب محض ایک داخلی یا مذہبی واقعہ نہیں ہے، بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے حکمرانی کے ڈھانچے کے تسلسل اور اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی اور بین الاقوامی پوزیشن کے بارے میں اہم پیغامات پر مشتمل ہے۔
تہران؛ امتدادِ حکمرانی کی علامت
الجزیرہ نے تہران میں عوامی تقریبات اور تشییع کے مرکزی مراسم کے انعقاد کو نظام کے تمام ارکان، ـ بشمول حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، مسلح افواج اور دیگر حکمران اداروں ـ کی اس تقریب میں بیک وقت موجودگی کی علامت قرار دیا ہے۔
الجزیرہ کا خیال ہے کہ دارالحکومت میں اس تقریب کا انعقاد یہ پیغام دیتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا حکمرانی کا ڈھانچہ مربوط، بااختیار، فعال اور قائم و دائم ہے۔
قم؛ قیادت اور حوزہ علمیہ کا باہم رشتہ
الجزیرہ نے "امام شہید" کے جسم مطہر کی قم منتقلی کو خاص طور پر اہم قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ شہر، ایران [اور عالم اسلام] میں شیعہ حوزات علمیہ کے سب سے اہم مرکز کے طور پر، اسلامی جمہوریہ کی مذہبی مشروعیت و قانونیت کے ستونوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔ اور قم میں تشییع کے مراسمات کا انعقاد، قیادت و رہبری کے مرتبے کے روحانی اداروں اور حوزات علمیہ سے تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔
نجف اور کربلا؛ ایران کی سرحدوں سے آگے
اس تجزیئے کے ایک اور حصے میں، نجف اور کربلا کی تقریبات کو اس تشییع کا سب سے اہم اور قومی حدُود سے آگے (Transnational) کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
الجزیرہ نے زور دیا ہے کہ تشییع کے مراسمات کی ان دو شہروں میں منتقلی، شیعہ دنیا کے لئے اسلامی جمہوریہ کا اہم پیغام ہے؛ کیونکہ نجف شیعہ مرجعیت کے سب سے اہم مراکز میں سے ایک ہے اور کربلا بھی عاشورا کی ثقافت اور شیعیان عالم کی تاریخی شناخت کی علامت، سمجھا جاتا ہے۔
اس نیٹ ورک کے مطابق، تقریب کا یہ حصہ، ایران کی علاقائی پوزیشن اور عراق اور شیعہ دنیا میں اس کے مذہبی اور سیاسی تعلقات کے نیٹ ورک کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
تدفین کے لئے مشہد کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
الجزیرہ نے بعدازاں، مشہد کو مقامِ تدفین کے طور پر منتخب کرنے کی اسباب پر روشنی ڈالی ہے اور نشاندہی کی ہے کہ یہ انتخاب دو اہم عناصر یعنی آیت اللہ خامنہ ای کی جائے پیدائش اور امام علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) کے روضۂ اقدس کا کا مجموعہ ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، "امام شہید" کی تدفین شیعیانِ عالم کے آٹھویں امام کے روضے کے جوار میں، رہبر انقلاب کی ذاتی زندگی سے تعلق کے علاوہ، تدفین کی جگہ کو ایک خاص مذہبی مقام عطا کرتی ہے اور اسے ایران کے زیارتی جغرافئے کا حصہ بناتی ہے۔
تشییع جنازہ؛ اسلامی جمہوریہ کے نظام میں نئے مرحلے کا آغاز
الجزیرہ نے اپنے تجزیے کے خلاصے میں زور دیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی تشییع کے مراسمات محض ایک تاریخی دور کا اختتام نہیں، بلکہ ان کے بعد کی اسلامی جمہوریہ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
الجزیرہ کے نقطہ نظر سے، عوامی شرکت کی مقدار، بیرونی وفود کی شرکت، حوزات علمیہ کا کردار اور تقریب کے انتظام کا طریقہ، یہ سب وہ اشارے ہیں جو اسلامی جمہوریہ کے سیاسی ڈھانچے کی ہم آہنگی کو ظاہر کریں گے اور مبصرین کی توجہ کا مرکز بنیں گے۔
الجزیرہ نے آخر میں نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی تشییع اور تکریم و تعظیم کی رسم، "نظام کے دوام و تسلسل" کی علامت ہے؛ ایک ایسی تقریب جس میں حکومت، مذہبی ادارے، رائے عامہ اور شیعہ دنیا کو ایک متحدہ بیانئے کے سانچے میں میں پیش کیا جاتا ہے اور اس میڈیا کے نقطہ نظر سے، یہ داخلی اور خارجی سننے اور دیکھنے والوں (Audiences) کو اسلامی جمہوریہ کے سیاسی ڈھانچے کے استحکام، دوام، تسلسل، یکجہتی اور ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ